قتل مرتد کے بارے میں صحابہ کرام کا طرزِ عمل

صدیق اکبر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مسند خلافت پر بیٹھتے ہی جس شدت کے ساتھ مرتدین کو قتل کیا، محتاجِ بیان نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم کے لیے مرتد کو زِندہ دیکھنا ناقابل برداشت تھا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ عنہما دونوں رسول اللّٰہ ﷺ کی طرف سے یمن کے دو مختلف حصوں پر حاکم تھے۔ ایک دفعہ حضرت معاذ بن جبل حضرت ابو موسیٰ اشعری سے ملاقات کے لیے آئے۔ ایک بندھے ہوئے شخص کو دیکھ کر اُنہوں نے پوچھا، یہ کون ہے؟ ابو موسیٰ اشعری نے فرمایا:

کان یہودیا فاسلم ثمّ تھوّد قال اجلس قال لا اجلس حتّٰی یقتل قضاء اللہ ورسولہ ثلاث مرّات فامر بہٖ فقتل۲۔

ترجمہ: یہ یہودی تھا۔ مسلمان ہونے کے بعد پھر یہودی (ہو کر مرتد) ہو گیا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے حضرت معاذ بن جبل کو بیٹھنے کے لیے کہا۔ اُنہوں نے تین بار فرمایا: جب تک اِسے قتل نہ کر دِیا جائے، میں نہیں بیٹھوں گا۔ (قتل مرتد) اللّٰہ اور اُس کے رسول کا فیصلہ ہے۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللّٰہ عنہ کے حکم سے اُسے اُسی وقت قتل کر دِیا گیا۔