بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بسلسلہ شریعت پیٹیشن
دَر توھین رِسالت
بعدالت جناب چیف جسٹس صاحب وفاقی شرعی عدالت ، پاکستان


بیان مِن جانِب
سید احمد سعید کاظمی صدر مرکزی جماعت اہلسنَّت پاکستان
و شیخ الحدیث مدرسہ عربیہ اِسلامیہ انوار العلوم، ملتان
محترم محمد اسمٰعیل قریشی، سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پاکستان، لاہور نے بنام اِسلامی جمہوریہ پاکستان، تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ نمبر ۲۹۵ الف اور دفعہ ۲۹۸ الف کے خلاف شرعی عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے۔ جہاں تک اہانت رسالت اور توہین و تنقیص نبوت سے اِس درخواست کا تعلق ہے، میں اِس سے پوری طرح متفق ہوں اور دلائل شرعیہ (کتاب و سنَّت، اجماعِ اُمت اور تصریحاتِ علماءِ دِین) کے مطابق میں اِس کی مکمل تائید اور حمایت کرتا ہوں۔ اِس سلسلے میں میرا تفصیلی بیان درج ذیل ہے:
کتاب و سنت، اجماعِ امت اور تصریحاتِ ائمہ دِین کے مطابق توہین رسول کی سزا صرف قتل ہے۔ رسول ﷺ کی صریح مخالفت توہین رسول ہے۔ قرآن مجید نے اِس جرم کی سزا قتل بیان کی ہے۔ اِسی بناء پر کافروں سے قتال کا حکم دِیا گیا۔ قرآن مجید میں ہے
ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ شَآقُّوا اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ۱ یہ (یعنی کافروں کو قتل کرنے کا حکم ) اِس لیے ہے کہ اُنہوں نے اللّٰہ اور اُس کے رسول کی صریح مخالفت کر کے اُن کی توہین کا ارتکاب کیا۔ توہین رسول کے کفر ہونے پر بکثرت آیاتِ قرآنیہ شاھد ہیں۔ مثلاً

 وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ قُلْ أَبِاللہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِءُ وْنَo لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ۱

ترجمہ: اور اگر آپ اُن سے پوچھیں تو وہ ضرور کہیں گے، ہم تو صرف ہنسی مذاق کرتے تھے۔ آپ (اُن سے) کہیں، کیا تم اللّٰہ اور اُس کی آیتوں اور اُس کے رسول کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہو۔ کوئی عذر نہ کرو۔ بے شک اِیمان کے بعد تم نے کفر کیا۔
مسلمان کہلانے کے بعد کفر کرنے والا مرتد ہوتا ہے اور اَزرُوئے قرآن مرتد کی سزا صرف قتل ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا:
قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰی قَوْمٍ اُوْلِی بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ
۲ ترجمہ: اے رسول (ﷺ) پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے فرما دیجیے، عنقریب تم سخت جنگ کرنے والوں کی طرف بلائے جاؤ گے۔ تم اُن سے قتال کرتے رہو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔ یہ آیت مرتدین اہل یمامہ کے حق میں بطورِ اخبار بالغیب نازل ہوئی۔ اگرچہ بعض علماء نے اِس مقام پر فارس و رُوم وغیرہ کا ذِکر بھی کیا ہے،لیکن حضرت رافع بن خدیج رضی اللّٰہ عنہ کی حسب ذیل روایت نے اِس آیت کو مرتدین بنی حنیفہ (اہل یمامہ) کے حق میں متعین کر دِیا
عن رافع بن خدیج انّا كنّا نقرأ ھٰذہ الاٰیة فیما مضی ولا نعلم من ھم حتّٰی دعا ابو بکر رضی اللہ عنہ الٰی قتال بنی حنیفة فعلمنا انّھم ارید وابھا۔
۳ ترجمہ: حضرت رافع بن خدیج رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ گزشتہ زمانے میں ہم اِس آیت کو پڑھا کرتے تھے اور ہمیں معلوم نہ تھا کہ وہ کون لوگ ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نے (مرتدین) بنی حنیفہ (اہل یمامہ) کے قتال کی طرف مسلمانوں کو بلایا۔ اُس وقت ہم سمجھے کہ اِس آیتِ کریمہ میں یہ مرتدین ہی مراد ہیں۔
ثابت ہوا کہ اگر مرتد اِسلام نہ لائے تو اَز رُوئے قرآن اُس کی سزا قتل کے سوا کچھ نہیں۔ قتل مرتد کے بارے میں متعدد احادیث وارد ہیں۔ اختصار کے پیشِ نظر صرف ایک حدیث پیش کی جاتی ہے۔
اتی علیّ بزدناقة فاحرقھم (وفی روایة ابی داؤد۱ انّ علیًّا احرق ناسًا ارتدوا عن الاسلام) فبلغ ذٰلك ابن عبّاس فقال لو كنت انا لم احرقھم لنھی رسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم لا تعذّبوا بعذاب اللہِ ولقتلتھم لقول رسول اللہِ صلّی اللہ علیہ وسلّم من بدّل دینہ فاقتلوہ۲۔ ترجمہ: حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے پاس (مرتد ہو جانے والے) زِندیق لوگ لائے گئے تو آپ نے اُنہیں جلا دِیا۔ اِس کی خبر حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہ کو پہنچی تو اُنہوں نے فرمایا، اگر (آپ کی جگہ) میں ہوتا تو اُنہیں نہ جلاتا کیونکہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا، اللّٰہ کے عذاب کے ساتھ کسی کو عذاب نہ دو، اور میں اُنہیں قتل کرا دیتا کیونکہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا، جو (مسلمان) اپنے دِین سے پھر جائے اُسے قتل کر دو۔