بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ


حمد بے حد مر رسول پاك را
آں کہ ایماں داد مُشتِ خاک را


کچھ باتیں کچھ یادیں


دولتِ خدادادِ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے وقت تک برصغیر کے قریے قریے میں جید علمائے موجود تھے اور اپنے اپنے علاقے کے لوگوں کو فیض یاب کرتے رہے، مگر اہلِ سُنَّت کی شومی قسمت کہ وہ علمائے حق یکے بعد دیگرے عازمِ خُلدِ بریں ہوتے چلے گئے۔ اُن میں سے بہت سے حضرات بجا طور پر علم کے ھمالہ تھے، مگر شہرت اُن پر فریفتہ نہیں تھی، لہٰذا اُن کا تعارف صرف حلقہ علماء تک محدود رہا۔

مفتی اعظم پاکستان حضرتِ علامہ ابو البرکات سید احمد قادری، چشتی، اشرفی، امیر حزب الاحناف لاہور (رحمۃ اللّٰہ علیہ) اور غزالی زماں، رازیٔ دوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی امروہوی چشتی صابری قادری بانی انوار العلوم ملتان (رحمۃ اللّٰہ علیہ) اُن بزرگوں میں سے ہیں جو علم و فضل کے بحر زخّار اور دریائے معرفت کے شناور تھے۔ شہرت اُن پر ایسی عاشق و شیدا تھی کہ ہر وقت اُن کے دروازوں پر دربانی کے فرائض سرانجام دیتی تھی۔ یہ دونوں بزرگ قیام پاکستان سے بہت پہلے پورے برصغیر (پاک و ہند) میں اپنی فضیلتِ علمی اور شرافت نفسی کا لوہا منوا چکے تھے۔ امرتسر میں سیدنا امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ کا عرسِ مبارک نہایت تزک و احتشام سے منعقد ہوا کرتا تھا۔  اِس مقدس و بابرکت محفل میں سربرآوردہ مشائخ عظام اور جید علمائے کرام شرکت کرنا باعث فخر و مباہات جانتے تھے چنانچہ مذکورة الصدور دونوں بزرگ بھی اِس سہ روزہ محفل (اجلاس) میں شرکت فرماتے اور اہالیانِ امرتسر کو اپنے مواعظِ حسنہ و علمیہ سے بہرہ ور فرماتے تھے۔ لہٰذا احقر اُس زمانے سے اِن بزرگوں کے مداحین میں شامل تھا۔ پاکستان میں ہجرت کے بعد اِن بزرگوں کو بہت قریب سے دیکھنے کا بھی موقع میسر آیا اور یہ ہر دو بزرگ فقیر حقیر پر بے حد شفقت فرماتے تھے۔

ء۱۹۷۳؁ میں جب راقم السطور کو مدینہ منورہ میں حاضری کی سعادت عظمیٰ نصیب ہوئی تو وہاں قطب مدینہ شیخ العرب والعجم حضرت شاہ ضیاء الدین احمد قادری مہاجر مدنی، خلیفہ خاص اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان قادری بریلوی (قدس سرہما) کے آستانہ عالیہ پر ہر روز حاضری سے مشرف ہوتا رہا اور متعدد مرتبہ حضرت قطب مدینہ نے اپنی زبانِ فیض ترجمان سے یہ ارشاد فرمایا اِس وقت پاکستان میں صرف دو ہی معتبر اور قابل اعتماد عالم دِین ہیں، ایک حضرت ابو البرکات سید صاحب اور دُوسرے علامہ سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب۱ (بلفظہٖ بقدرِ حافظہ)۔


حضرت قطب مدینہ کی لسان فیض ترجمان سے ان بزرگوں کی عظمت کے اعلان سے مجھے بے حد خوشی محسوس ہوئی کہ ان کے بارے میں میرا فیصلہ بالکل صحیح تھا۔ ۲۰ شوال المکرم ۱۳۹۸ھ جو حضرت ابو البرکات واصل بحق ہو گئے اور اُن کے بعد لاہور میں سند افتاء بے وُقعت ہو کر رہ گئی۔ ۲۵ رمضان المبارک ۱۴۰۶ھ کو حضرتِ غزالی دوراں مکین خلد بریں ہو گئے تو عوام اہل سُنَّت بالکل بے سہارا ہو گئے۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ حضرت قبلہ کاظمی شاہ صاحب
اَعْلَی اللہُ مَقَامُہٗ کی ذاتِ گرامی فی الحقیقت مستغنی عن الخطاب ہے۔ جب اُن کا نامِ نامی آ جائے تو خطابات و القابات اُن کی قد آور شخصیت سے بہت چھوٹے نظر آنے لگتے ہیں۔ بلاشبہ وہ نابغہ روزگار علماء میں سے تھے جو صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔

سال ہا با ید کہ تا یک فردِ حق پیدا شوَد
با یزید اندر خراساں یا اویس اندر قرن

تحریک پاکستان کے مبلغ اعظم حضرت ابو المحامد سید محمد محدث چشتی اشرفی کچھوچھوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے خطبہ آل انڈیا سنی کانفرنس منعقدہ بنارس (۱۹۴۶؁ء) کے آخر میں درج ہدایات و تجاویز کی روشنی میں اگر پاکستان کے اندر متفقہ طور پر مرکزی دار الافتاء قائم کیا ہوتا یا کم از کم اہل سُنَّت کو درپیش نت نئے مسائل علمیہ کے حل کے لیے امارتِ شرعیہ قائم کی ہوتی تو یقیناً کاظمی شاہ صاحب اُس کے متفقہ طور پر صدر الصدور قرار پاتے اور چھوٹے چھوٹے مولوی اور خود ساختہ مفتی، جو عجیب و غریب باتیں کرتے رہتے ہیں، اُنہیں اپنی پناہ گاہوں سے باہر جھانکنے کی بھی جرأت نہ ہوتی، مگر وائے افسوس کہ یہاں اُلٹی گنگا بہنے لگی۔


حضرت قطب مدینہ قدس سرہ العزیز کے ارشاد کے مطابق قبلہ کاظمی شاہ صاحب آخری اہل حق سربرآوردہ عالم دِین ثابت ہوئے جس کی تصدیق درپیش حالات نے کر دِی ہے۔ مثلاً بعض حنفی سنی علماء نے شریعت آرڈی نینس کو قبول کر لیا ہے جس کا تعلق صرف سعودیہ کی شریعت سے ہے اور ولایتِ ابو حنیفہ (پاکستان) میں اُن نام نہاد حنفی علماء کے دستخطوں سے سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے نام اور کام کو حرفِ غلط کی طرح محو کر دِیا گیا اور غائبانہ نمازِ جنازہ کی بدعت اپنا لی گئی ہے۔ پاکستان جن حنفی اولیاء اللّٰہ کا فیضان ہے، اُن کی ارواحِ مقدسہ اِن نام نہاد حنفیوں سے ناراض ہیں اور اِن سب کا انجام قوم ضرور دیکھے گی اِن شاء اللّٰہ تعالیٰ! اَب یہی نام نہاد عاشقان مصطفیٰﷺ نظام مصطفیٰ کو بالکل بھول گئے ہیں اور ضیاء اِزم، ضیاء اِزم کا وظیفہ جپنے لگے ہیں۔


ضیاء اِزم کیا ہے؟ مولوی اشرف علی تھانوی کے افکار و تعلیمات کی نشر و اشاعت یا یوں کہیے کہ سعودیہ کے قوانین کی ترویج!
اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!


اہل السنت والجماعت کو اِن نام نہاد علماء کو جو فی الحقیقت بندگانِ سیم و زر ہیں، اپنے سے دُور رَکھنا چاہیے تاکہ اِن کے منحوس اثرات سے اِیمان محفوظ رہ سکے۔


پیشِ نظر رِسالہ حضرت علامہ کاظمی شاہ صاحب کا ایک تحریری بیان ہے جو اُنہوں نے جناب چیف جسٹس صاحب وفاقی شرعی عدالت کے استفسار پر تحریر کیا تھا جس میں اِھانت رسالت مآب اور تنقیض نبی کریم ﷺ کی سزا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کتاب و سنَّت، اِجماعِ اُمت اور تصریحاتِ علمائے اُمت سے واضح ہے کہ ہر شاتم رسول کی سزا قتل ہے اور اِس مسئلے میں اہل حق میں سے کبھی کسی نے اختلاف نہیں کیا۔ اگر پاکستان میں اہل سنَّت کی امارتِ شرعیہ موجود ہوتی تو اِس اِیمان افروز بیان کو اہل حق کے چیف جسٹس کا فیصلہ قرار دِیا جاتا اور مسلم ممالک کی عدالتوں میں بطورِ حجت اِسے پیش کیا جاتا، مگر ع

اِس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

قبلہ کاظمی شاہ صاحب نے اِس تحریر میں گستاخانِ رسول کی اِسلامی سزا بتائی ہے۔ میں اس موقع پر امرتسر میں رونما ہونے والا تقریباً نوے (۹۰) سال پہلے کا ایک واقعہ لکھنا ضروری سمجھتا ہوں جو بے حد اِیمان افروز اور عبرت انگیز ہے۔ یہ واقعہ حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب قبلہ علی پوری قدس سرہٗ نے امام الائمہ سیدنا حضرت ابو حنیفہ کوفی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے عرس سراپا قدس منعقدہ مسجد جان محمد امرتسر کے اجتماعِ عظیم میں بیان فرمایا تھا۔


امرتسر کے گرجا گھر کے سامنے کھڑا ہو کر ایک پادری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فضائل اور عیسائی مذہب کی خوبیاں بیان کر رہا تھا اور وہ (پادری) دورانِ تقریر حضور پر نور نبی کریم ﷺ کا اِسمِ گرامی ادب و احترام سے نہیں لیتا تھا۔ سامعین میں ایک بھنگڑ اِس حالت میں کھڑا تھا کہ بھنگ گھوٹنے والا ڈنڈا اُس کے کاندھے پر تھا۔ اُس خوش بخت نے کہا
پادری! ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو برحق نبی مانتے ہیں اور اُن کا نام ادب سے لیتے ہیں، تو بھی ہماری سچی سرکار (ﷺ) کا نام ادب سے لے۔
مگر پادری پر اِس کا کچھ اثر نہ ہوا تو اِس عالی ہمم نے پھر ٹوکا۔ جب پادری نے تیسری بار بھی اُسی طرح نام لیا تو اُس پاک نہاد نے اپنا وہ ڈنڈا جس سے بھنگ گھوٹتا تھا، اِس زور سے پادری کے سر پر دے مارا کہ پادری کا سر پھٹ کر بھیجا باہر آ گیا اور وہ مردود بیان دیے بغیر واصل جہنم ہو گیا۔ یہ عاشقِ صادق پکڑا گیا۔ موت کی سزا ہوئی۔ اپیل ہوئی۔ انگریز جج نے یہ لکھ کر بری کر دِیا کہ
پادری کا قاتل تکیہ نشین بھنگڑ ہے۔ کوئی مولوی نہیں۔ مولوی اور پادری کی کوئی باہمی رنجش ہو سکتی ہے۔ بھنگڑ سے پادری کی دیرینہ یا تازہ رنجش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ پادری نے ضروری اِس کے جذبات کو مجروح کیا ہے، لہٰذا میں اِسے بری کرتا ہوں۔ (بتغییر یسیر بقدرِ حافظہ


اللّٰہ تعالیٰ اس مکین تکیہ کے مرقد منور پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور اُس جیسا اِیمان ہر مکین مسجد اور ہر مسلمان کو نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین! بجاہِ سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وصحبہٖ وسلم۔


اِس واقعے کے نقل کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ وہ پادری حضور پر نور سید الانبیاء ﷺ کی شانِ اقدس میں کوئی گستاخی کا کلمہ نہیں کہہ رہا تھا، صرف حضور پاک ﷺ کا اِسم پاک اِسلامی آداب سے نہیں لیتا تھا یعنی مولوی اسمٰعیل دہلوی کی طرح جس کا نام محمد یا علی ہے، وہ کسی چیز کا مختار نہیں۱ (
نقل كفر كفر نباشد
یعنی پادری صرف محمد صاحب کہہ رہا تھا اور اُس تکیہ والے عاشقِ صادق کو یہ بات بھی ناگوار گزری اور اُس نے اپنے مذہب عشق کا جھنڈا بلند کر دِکھایا۔ ع

خدا رحمت كند اِیں عاشقانِ پاج طینت را

عاشقانِ سید ابرار (صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وصحبہٖ وسلم) کسی عالم و مفتی سے پوچھے بغیر ہی ادب نہ کرنے والوں کو جہنم رسید کر دیتے ہیں تو کوئی گستاخ اُن کے خنجرِ بُرّاں سے کیونکر بچ سکتا ہے۔ اُن کا مفتی اُن کا وِجْدان ہوتا ہے۔ اُن کا پیر و مرشد اُن کا جذبہ عشق ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسے اَن پڑھ غازیوں کا یہ کام ہمیشہ لائق تقلید ہوتا ہے۔ کفار کی حکومت میں تو اِسی طرح ہونا چاہیے اور ہوتا رہا، مسلمانوں کی حکومت میں یہ عدالت کی ذِمہ داری ہے کہ وہ سچی شہادتوں کے بعد گستاخِ رسول کے قتل کا حکم صادر کرے تاکہ مزید اُلجھنیں اور پیچیدگیاں پیدا نہ ہو سکیں۔

داتا کی نگری
۶ صفر المظفر ۱۴۰۹؁ھ

خاک راہِ درد منداں
محمد موسیٰ عفی عنہ